مواد پر جائیں مواد پر جائیں
انٹیلیجینس رپورٹ

کرکٹ شائقین کی رہنما کتاب: امپائر کے اشارے

کرکٹ امپائر کے اشارے کھیل کے ہر فیصلے کو واضح، فوری اور یکساں بناتے ہیں۔ میدان میں کھڑا فیلڈ امپائر آؤٹ کے لیے ایک انگلی بلند کرتا ہے، نو بال کے لیے ایک بازو پہلو کی طرف پھیلاتا ہے، وائیڈ کے لیے دونوں...

28 اکتوبر، 2026 5 min read
کرکٹ شائقین کی رہنما کتاب: امپائر کے اشارے

کرکٹ شائقین کی رہنما کتاب: امپائر کے اشارے

کرکٹ امپائر کے اشارے کھیل کے ہر فیصلے کو واضح، فوری اور یکساں بناتے ہیں۔ میدان میں کھڑا فیلڈ امپائر آؤٹ کے لیے ایک انگلی بلند کرتا ہے، نو بال کے لیے ایک بازو پہلو کی طرف پھیلاتا ہے، وائیڈ کے لیے دونوں بازو کندھوں کی سطح پر کھولتا ہے، جبکہ چھکے کے لیے دونوں بازو سر کے اوپر اٹھائے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے قوانین کے مطابق باؤنڈری، بائے، لیگ بائے، ڈیڈ بال اور ریویو کے اشارے اسکورر، کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو ایک ہی وقت میں معلومات دیتے ہیں۔ میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین میں گیند کے ڈیڈ ہونے کے بعد اشارہ دینے کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ وکٹ ٹریک پر ان علامات کو سمجھنے کے لیے پہلے بنیادی اشارے یاد کریں، پھر ان کے درمیان فرق کو میچ کی صورتحال سے جوڑ کر دیکھیں۔

Empty the Bank · Free demo

ایک بین الاقوامی کرکٹ میدان میں امپائر کھلاڑیوں کے سامنے فیصلہ سناتے ہوئے، روشن اسٹیڈیم اور پُرجوش ماحول

کرکٹ کے شائقین کے لیے صرف اسکور بورڈ دیکھنا کافی نہیں؛ امپائر کا ایک مختصر اشارہ کبھی پورے اوور، اور کبھی پورے مقابلے کی تشریح بدل دیتا ہے۔ یہ اشارے محض ہاتھ ہلانے کی رسم نہیں بلکہ قوانین، مواصلاتی نظم اور اسکورنگ کے ایک باقاعدہ نظام کا حصہ ہیں۔ مزید یہ کہ ٹی ٹوئنٹی، ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ میں بنیادی علامات تقریباً یکساں رہتی ہیں، اگرچہ ریویو، ڈیڈ بال اور باؤنڈری کے فیصلے میں ٹیکنالوجی کا کردار بڑھ گیا ہے۔ وکٹ ٹریک پر ہم ان اشاروں کو عملی مثالوں، عام غلط فہمیوں اور اسکورر کے زاویے سے دیکھتے ہیں، تاکہ اگلی بار آپ ٹی وی پر انگلی، بازو یا کلائی کی حرکت دیکھیں تو اندازے نہ لگائیں؛ آخر کرکٹ کوئی خاموش اشاروں کا تھیٹر نہیں، باقاعدہ قانون ہے۔

مزید مثالیں اور میچ کے فیصلوں کی تشریح دیکھنے کے لیے یہ رہنما بھی ملاحظہ کریں۔

مزید جانیں

کیا انگلی اٹھانا ہمیشہ آؤٹ کا فیصلہ ہوتا ہے؟ غلط فہمی کی وضاحت

انگلی عمودی طور پر اٹھانا عام طور پر آؤٹ کا حتمی اشارہ ہے، مگر امپائر کا ابتدائی ہاتھ اٹھانا کبھی اپیل، کبھی ریویو کے بعد آنے والے فیصلے سے الگ ہو سکتا ہے۔ فیلڈ امپائر انگلی اٹھائے تو بیٹر آؤٹ سمجھا جاتا ہے، لیکن ٹی وی امپائر کی مداخلت، نو بال یا گیند کے ڈیڈ ہونے کا سوال فیصلہ بدل سکتا ہے۔

یہاں بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اپیل کے دوران فیلڈنگ ٹیم کا بلند آواز میں مطالبہ فیصلہ نہیں ہوتا؛ فیصلہ امپائر کی انگلی سے بنتا ہے۔ کیچ، ایل بی ڈبلیو، اسٹمپنگ اور رن آؤٹ میں اشارہ ایک جیسا نظر آ سکتا ہے، مگر فیصلہ کن وجہ مختلف ہوتی ہے۔ اگر گیند نو بال ہو تو بیٹر کیچ ہونے کے باوجود عام طور پر آؤٹ نہیں دیا جا سکتا، سو صرف انگلی دیکھ کر نتیجہ نکالنا وہی جلد بازی ہے جس سے سوشل میڈیا پر نصف بحثیں جنم لیتی ہیں۔

کرکٹ کے بنیادی قوانین کی مکمل رہنما کتاب

میریلی بون کرکٹ کلب کے قانون 2 کے اصولوں کے مطابق امپائر کا فیصلہ کھیل کے انتظامی ڈھانچے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین میں امپائر کے اختیارات اور اشاروں کی تفصیل موجود ہے۔ قانون کا بنیادی مفہوم یہ ہے: “امپائر گیند کے ڈیڈ ہونے تک فیصلہ کن اشارہ دینے کا انتظار کرے گا۔” اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ کیچ مکمل ہونے، رن مکمل ہونے یا گیند کے باؤنڈری تک پہنچنے کی تصدیق کے بعد ہی اشارہ معتبر سمجھا جائے۔ شائقین کو اس دوران کھلاڑیوں کے جشن کو فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے؛ جشن جذبات ہے، انگلی قانون ہے۔

کسی فیصلے کی باریک تشریح جاننے کے لیے اسکور کارڈ میں وکٹ کی قسم، گیند نمبر اور اضافی رنز بھی دیکھیں۔ اسکور کارڈ پڑھنے کا آسان طریقہ

آؤٹ کے اہم اشارے

  • آؤٹ: ایک انگلی سیدھی اوپر۔
  • ناٹ آؤٹ: دونوں بازو عموماً جسم کے پہلو میں، واضح نفی کے ساتھ۔
  • ریویو: امپائر کا ہاتھ سر کے اوپر مستطیل شکل بناتا ہے۔
  • تھرڈ امپائر کا فیصلہ: فیلڈ امپائر عموماً کان یا سر کی طرف اشارہ کرکے اسکرین کا انتظار کرتا ہے۔
  • رن آؤٹ یا اسٹمپنگ: فیصلہ انگلی کے اشارے سے آؤٹ ہی رہتا ہے، مگر ٹی وی ریویو میں کریز اور بیلز کی تصاویر دیکھی جاتی ہیں۔

کیا ہر پھیلا ہوا بازو نو بال یا وائیڈ بتاتا ہے؟ جزوی طور پر درست

نہیں، ایک بازو پہلو کی طرف پھیلانا نو بال کا مخصوص اشارہ ہے، جبکہ دونوں بازو افقی طور پر پھیلانا وائیڈ کی علامت ہے؛ فرق بازوؤں کی تعداد میں ہے۔ نو بال پر ایک اضافی رن ملتا ہے، وائیڈ پر بھی عموماً ایک اضافی رن دیا جاتا ہے، مگر گیند کی قانونی حیثیت اور اگلی گیند کے حساب میں دونوں بالکل مختلف ہیں۔

نو بال کا اشارہ ایک بازو کو کندھے کی سطح پر مکمل طور پر پھیلا کر دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس وائیڈ کے لیے دونوں بازو دائیں اور بائیں طرف کھولے جاتے ہیں، تاکہ دور بیٹھا اسکورر بھی اسے پہچان سکے۔ نو بال کے بعد موجودہ محدود اوورز کے ضابطے کے تحت اکثر فری ہٹ کا امکان پیدا ہوتا ہے، مگر ہر مقابلے کے ضوابط ایک جیسے نہیں؛ ٹیسٹ کرکٹ میں فری ہٹ عام اصول نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ٹی ٹوئنٹی کی عادت رکھنے والے شائقین قوانین کو ہر فارمیٹ پر زبردستی چسپاں کر دیتے ہیں۔

امپائر ایک بازو پھیلا کر نو بال کا اشارہ دے رہا ہے، پچ پر بولر اور بیٹر فیصلہ دیکھ رہے ہیں

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے کھیل کے حالات میں نو بال، وائیڈ اور فری ہٹ کی شقیں مقابلے کے فارمیٹ سے جڑی ہوتی ہیں۔ اس لیے ٹی وی پر “فری ہٹ” کا گرافک دیکھ کر یہ فرض نہ کریں کہ ہر نو بال کے بعد ہر سطح کی کرکٹ میں وہی نتیجہ آئے گا۔ ایک مفید عملی نکتہ یہ ہے کہ اضافی رنز کی تفصیل دیکھیں: وائیڈ میں گیند اوور کی قانونی چھ گیندوں میں شامل نہیں ہوتی، جبکہ نو بال بھی قانونی گیند نہیں شمار ہوتی؛ لہٰذا اوور کی لمبائی بڑھ سکتی ہے۔ اسکورر کی میز کے لیے یہ معمولی فرق نہیں، پورا حسابی مسئلہ ہے۔

نو بال اور وائیڈ میں فوری فرق

  1. نو بال: ایک بازو افقی، گیند غیر قانونی، فری ہٹ بعض محدود اوورز کے مقابلوں میں۔
  2. وائیڈ: دونوں بازو افقی، گیند غیر قانونی، بیٹر کے کھیلنے کی پوزیشن اور گیند کی سمت اہم۔
  3. دونوں صورتوں میں: اضافی رن، اوور میں قانونی گیند کم، اور اسکور بورڈ پر الگ اندراج۔
  4. اہم احتیاط: مقامی لیگ کے کھیل کے حالات بین الاقوامی ضوابط سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

فوری طور پر بنیادی اشاروں کا تقابلی خلاصہ دیکھنا ہو تو وکٹ ٹریک کی روزانہ کرکٹ کوریج مفید رہتی ہے۔

مزید جانیں

کیا چھکے کے لیے دونوں بازو اٹھتے ہیں؟ یہ دعویٰ سراسر غلط ہے

چھکے کا درست اشارہ دونوں بازوؤں کو سر کے اوپر سیدھا اٹھانا ہے، جبکہ چوکے کے لیے ایک بازو کو کندھے کی سطح پر دائیں یا بائیں طرف حرکت دی جاتی ہے۔ اس لیے چوکے اور چھکے کا فرق صرف باؤنڈری کی تعداد نہیں بلکہ امپائر کے اشارے کی سمت اور اونچائی میں بھی واضح ہوتا ہے۔

امپائر پہلے گیند کے باؤنڈری تک پہنچنے کی تصدیق کرتا ہے، پھر دونوں ہاتھ یا بازو اوپر کرکے چھکا ظاہر کرتا ہے۔ چوکے میں عموماً ایک بازو کو سینے کے سامنے افقی انداز میں بار بار حرکت دی جاتی ہے؛ مختلف امپائرز کے انداز میں معمولی فرق ہو سکتا ہے، مگر بنیادی مفہوم یکساں رہتا ہے۔ اگر بیٹر نے گیند کو زمین پر باؤنڈری سے باہر بھیجا تو چوکا ہے، اور اگر گیند بیٹ سے براہ راست زمین چھوئے بغیر حد پار کرے تو چھکا ہے۔ یہاں کیپر کی اپیل، فیلڈر کا دعویٰ یا کمنٹیٹر کا جوش کسی کام نہیں آتا؛ باؤنڈری کا فیصلہ گیند اور حد کے تعلق سے بنتا ہے۔

امپائر دونوں بازو سر کے اوپر اٹھا کر چھکے کا اشارہ دے رہا ہے، تماشائی روشن اسٹیڈیم میں خوشی منا رہے ہیں

باؤنڈری کے نزدیک فیلڈر کی جسمانی پوزیشن بھی فیصلہ بدل سکتی ہے۔ اگر فیلڈر گیند کو روکنے کی کوشش میں باؤنڈری رسی کو چھو لے، یا گیند پکڑتے وقت رسی سے رابطہ ہو، تو میدان کی صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیا جاتا ہے۔ جدید میچوں میں ری پلے، ہاک آئی اور الٹرا ایج جیسے ذرائع ہر باؤنڈری فیصلے میں استعمال نہیں ہوتے، مگر مشکوک کیچ یا رسی کے رابطے پر ٹی وی امپائر کی مدد لی جا سکتی ہے۔ کرکٹ کی تاریخ اور قوانین کا تعارف بتاتا ہے کہ اشارے بنیادی طور پر ایک بین الاقوامی بصری زبان ہیں، نہ کہ ہر امپائر کی ذاتی ایجاد۔

اصل میں کون سے اشارے کام آتے ہیں؟

کرکٹ امپائر کے اشارے مؤثر تب بنتے ہیں جب انہیں تین سطحوں پر پڑھا جائے: رنز، اضافی رنز اور کھیل کی انتظامی حالت۔ رنز کے اشاروں میں چوکا، چھکا، بائے، لیگ بائے اور شارٹ رن شامل ہیں؛ اضافی رنز میں نو بال اور وائیڈ آتے ہیں؛ جبکہ ڈیڈ بال، ٹائم آؤٹ اور ریویو کھیل کے بہاؤ کو منظم کرتے ہیں۔

بائے اس وقت دیا جاتا ہے جب گیند بیٹر کے جسم یا بیٹ کو چھوئے بغیر وکٹ کیپر سے گزرے اور بیٹر رن مکمل کریں۔ لیگ بائے میں گیند بیٹر کے جسم سے ٹکراتی ہے، مگر بیٹر نے گیند کھیلنے کی جائز کوشش کی ہو یا گیند جسم کے مقررہ حصے سے ٹکرائے؛ امپائر ایک ہاتھ گھٹنے کو چھو کر لیگ بائے کا اشارہ دیتا ہے۔ شارٹ رن میں امپائر بازو موڑ کر کلائی کو مخالف کندھے کی سمت لے جاتا ہے۔ یہ اشارے اسکور بورڈ پر معمولی اضافے نہیں، ٹیم کی حکمت عملی اور اوور کے حساب کا حصہ ہیں۔

اسکورر کی میز پر کرکٹ اسکور بورڈ، بائے، لیگ بائے اور نو بال کے الگ الگ اندراجات واضح دکھائی دے رہے ہیں

ڈیڈ بال کے لیے امپائر عموماً دونوں کلائیاں ایک دوسرے کے اوپر رکھتا ہے، جبکہ ٹائم آؤٹ کے لیے ہاتھوں سے گھڑی کی شکل بنائی جاتی ہے۔ پانچ رنز کے پنالٹی رن کا اشارہ ایک ہاتھ کندھے پر رکھ کر کیا جاتا ہے، پھر ہاتھ مخالف کندھے کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ کے مقام کو معنی سے جوڑیں: گھٹنا لیگ بائے، سر کے اوپر چھکا، افقی بازو نو بال، اور دونوں کھلے بازو وائیڈ۔ یہ طریقہ رٹنے سے بہتر ہے، کیونکہ دماغ بھی کبھی کبھی اسکور بورڈ کی طرح اضافی رنز مانگتا ہے۔

باؤلنگ کی حکمت عملی اور فیلڈ سیٹنگ

بنیادی اشاروں کی مختصر فہرست

  • چوکا: ایک بازو افقی انداز میں باؤنڈری کی سمت حرکت کرتا ہے۔
  • چھکا: دونوں بازو مکمل طور پر سر کے اوپر۔
  • بائے: ایک کھلا ہاتھ سر کے اوپر۔
  • لیگ بائے: ایک ہاتھ گھٹنے کو چھوتا ہے۔
  • ڈیڈ بال: دونوں کلائیاں ایک دوسرے پر۔
  • نو بال: ایک بازو پہلو کی طرف پھیلا ہوا۔
  • وائیڈ: دونوں بازو کندھوں کی سطح پر۔
  • ریویو: ہاتھوں سے مستطیل شکل۔
  • پانچ پنالٹی رنز: ہاتھ کندھے سے دوسرے کندھے کی طرف۔

کرکٹ امپائر کے اشاروں کو درست سمجھنے کے لیے صرف علامت یاد نہ کریں؛ یہ بھی دیکھیں کہ گیند کہاں گئی، بیٹر نے کیا کیا، اور اسکورر نے کون سا خانہ پُر کیا۔ یہی عملی ترتیب ٹی وی نشریات میں غلط فہمی کم کرتی ہے۔

اب ان اشاروں کو میچ کے مختلف حالات سے جوڑ کر سمجھنے کا وقت ہے۔

مزید جانیں

کن باتوں کو نظرانداز کرنا چاہیے؟

امپائر کے اشارے سمجھتے وقت کمنٹیٹر کی فوری رائے، کھلاڑیوں کا جشن اور سوشل میڈیا کے مختصر کلپس کو حتمی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایک مختصر ویڈیو میں نو بال کی فرنٹ فٹ، بیٹر کے جسم سے گیند کا رابطہ یا باؤنڈری رسی سے فیلڈر کا لمس دکھائی نہ دے تو فیصلہ غلط سمجھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی نظرانداز کریں کہ ہر امپائر بالکل ایک جیسا ہاتھ ہلاتا ہے۔ بنیادی ضابطہ ایک ہے، مگر اشارے کی رفتار، بازو کا زاویہ اور فیصلہ سنانے کا وقت معمولی طور پر مختلف ہو سکتا ہے۔ اصل معیار یہ ہے کہ اشارہ اسکورر تک صاف پہنچے اور کھیل کے قانون سے مطابقت رکھے۔ اسی طرح ٹی وی پر دکھائی دینے والا گرافک خود امپائر کا اشارہ نہیں؛ وہ نشریاتی ادارے کا معاون بصری نظام ہے، جس میں کبھی تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔

ایک اور کم زیرِ بحث نکتہ یہ ہے کہ ریویو کا اشارہ آؤٹ یا ناٹ آؤٹ نہیں بتاتا؛ یہ صرف فیصلے کی دوبارہ جانچ کی درخواست ظاہر کرتا ہے۔ فیلڈ امپائر کا ابتدائی فیصلہ اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک تھرڈ امپائر کی تصدیق یا تبدیلی نہ آئے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے کھیل کے ضوابط میں فیصلہ سازی، ریویو اور امپائر کے دائرۂ اختیار کو الگ الگ سمجھا گیا ہے۔ اس فرق کو بھولنا ایسا ہی ہے جیسے رسید دیکھے بغیر بل کی رقم پر بحث کرنا—جوش خوب، منطق غائب۔

ٹی وی امپائر ریویو اسکرین پر رن آؤٹ کیمرہ زاویہ دیکھ رہا ہے، کنٹرول روم میں متعدد مانیٹر روشن ہیں

میچ دیکھتے وقت درست ترتیب

  1. پہلے امپائر کا اصل اشارہ دیکھیں۔
  2. پھر کمنٹیٹر کی وضاحت سنیں۔
  3. اس کے بعد اسکور بورڈ پر اضافی رنز یا وکٹ کی قسم دیکھیں۔
  4. ریویو ہو تو حتمی تصدیق کا انتظار کریں۔
  5. فارمیٹ کے کھیل کے حالات سے فری ہٹ، پنالٹی رنز اور ریویو کی حدود ملائیں۔

یہ ترتیب شائقین کو خاص طور پر پاکستان سپر لیگ، آئی پی ایل، ایشیا کپ اور آئی سی سی عالمی مقابلوں میں مدد دیتی ہے، کیونکہ ہر ٹورنامنٹ میں ٹیکنالوجی اور کھیل کے حالات کی تفصیل الگ انداز میں پیش کی جا سکتی ہے۔

نتیجہ: اشارہ یاد نہیں، نظام سمجھیں

کرکٹ امپائر کے اشارے ایک منظم بصری زبان ہیں جس میں انگلی آؤٹ، ایک افقی بازو نو بال، دونوں افقی بازو وائیڈ، سر کے اوپر دونوں بازو چھکا، گھٹنے کو چھونا لیگ بائے اور کھلا ہاتھ بائے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان علامات کو گیند کی حالت، فارمیٹ، ریویو اور اسکور بورڈ کے ساتھ پڑھا جائے تو فیصلہ واضح ہو جاتا ہے۔ وکٹ ٹریک کی کرکٹ کوریج میں یہی اصول میچ کے جائزے، کھلاڑیوں کے اعداد و شمار اور حکمت عملی کی تشریح کو زیادہ قابلِ فہم بناتے ہیں۔ اگلی بار صرف تماشائی نہ بنیں؛ اشارہ دیکھیں، قانون ملائیں، پھر نتیجہ نکالیں—کیونکہ امپائر کا ہاتھ کبھی کبھی پورے میچ سے زیادہ صاف بولتا ہے۔

کرکٹ قوانین اور تازہ میچ تجزیوں کی مزید بصیرت کے لیے وکٹ ٹریک سے جڑے رہیں۔

مزید جانیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ امپائر کے اشارے کیا ہوتے ہیں؟

جواب: کرکٹ امپائر کے اشارے ہاتھ اور بازو کی مقررہ حرکات ہیں جو آؤٹ، رنز، اضافی رنز اور کھیل کی انتظامی حالت ظاہر کرتی ہیں۔ انگلی اٹھانا آؤٹ، ایک بازو پھیلانا نو بال، دونوں بازو پھیلانا وائیڈ اور دونوں بازو سر کے اوپر اٹھانا چھکا بتاتا ہے۔ یہ اشارے فیلڈ کھلاڑیوں، اسکورر، کمنٹیٹر اور تماشائیوں کو بیک وقت فیصلہ سمجھاتے ہیں۔ بنیادی علامات ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں زیادہ تر یکساں رہتی ہیں۔

سوال: آؤٹ اور ناٹ آؤٹ کا اشارہ کیسے پہچانیں؟

جواب: آؤٹ کے لیے امپائر ایک انگلی سیدھی اوپر اٹھاتا ہے، جبکہ ناٹ آؤٹ کے لیے واضح نفی کا اشارہ کیا جاتا ہے۔ کیچ، ایل بی ڈبلیو، اسٹمپنگ اور رن آؤٹ میں انگلی کا اشارہ ایک جیسا ہو سکتا ہے، مگر فیصلہ کی وجہ مختلف ہوتی ہے۔ اگر ریویو لیا جائے تو ابتدائی فیصلہ تھرڈ امپائر کی تصدیق تک زیرِ جائزہ رہتا ہے۔ جشن یا اپیل کو حتمی فیصلہ نہ سمجھیں۔

سوال: نو بال اور وائیڈ میں کیا فرق ہے؟

جواب: نو بال کا اشارہ ایک بازو افقی پھیلانے سے اور وائیڈ کا اشارہ دونوں بازو افقی پھیلانے سے دیا جاتا ہے۔ دونوں گیندیں اوور کی قانونی چھ گیندوں میں شمار نہیں ہوتیں اور عموماً ایک اضافی رن دیتی ہیں، لیکن نو بال میں فرنٹ فٹ، کمر کی اونچائی یا خطرناک گیند کے قوانین بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔ محدود اوورز کے بعض مقابلوں میں نو بال کے بعد فری ہٹ ملتی ہے، مگر ہر فارمیٹ میں نہیں۔

سوال: لیگ بائے اور بائے کیسے پہچانے جائیں؟

جواب: لیگ بائے میں امپائر ایک ہاتھ گھٹنے کو چھوتا ہے، جبکہ بائے کے لیے ایک کھلا ہاتھ سر کے اوپر اٹھایا جاتا ہے۔ بائے اس وقت بنتا ہے جب گیند بیٹ یا بیٹر کو چھوئے بغیر وکٹ کیپر سے گزرے اور رن مکمل ہوں۔ لیگ بائے میں گیند بیٹر کے جسم سے ٹکراتی ہے، مگر بیٹر کی جائز کھیلنے کی کوشش یا قانون میں بیان کردہ شرط پوری ہونا ضروری ہے۔ دونوں رنز بیٹر کے ذاتی اسکور میں شامل نہیں ہوتے۔

سوال: ریویو کا اشارہ کیا بتاتا ہے؟

جواب: ریویو کا اشارہ دونوں ہاتھوں سے مستطیل شکل بنانے کے ذریعے دیا جاتا ہے اور یہ فیصلے کی دوبارہ جانچ کی درخواست بتاتا ہے۔ یہ خود آؤٹ یا ناٹ آؤٹ کا اعلان نہیں ہوتا۔ فیلڈ امپائر کا ابتدائی فیصلہ اس وقت تک اہم رہتا ہے جب تک تھرڈ امپائر دستیاب ویڈیو، گیند کی سمت، بیٹ کے کنارے اور کریز کی صورت حال کا جائزہ نہ لے لے۔ حتمی فیصلہ دوبارہ میدان میں موجود امپائر کے ذریعے بتایا جاتا ہے۔

سوال: امپائر ڈیڈ بال کا اشارہ کب دیتا ہے؟

جواب: ڈیڈ بال کا اشارہ عموماً اس وقت دیا جاتا ہے جب گیند کھیل میں نہ رہے یا کھیل عارضی طور پر روکنا ضروری ہو۔ امپائر دونوں کلائیوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر یہ علامت دکھا سکتا ہے۔ کیچ مکمل ہونے، بیٹر کے آؤٹ ہونے، باؤنڈری لگنے، چوٹ، مداخلت یا غیر معمولی رکاوٹ کے بعد گیند ڈیڈ قرار دی جا سکتی ہے۔ ڈیڈ بال کے بعد ہونے والی حرکت عموماً اگلے قانونی کھیل کا حصہ نہیں بنتی۔

سوال: کیا کرکٹ امپائر کے تمام اشارے ہر فارمیٹ میں یکساں ہوتے ہیں؟

جواب: بنیادی اشارے ہر فارمیٹ میں تقریباً یکساں ہوتے ہیں، مگر ریویو، فری ہٹ، پنالٹی رنز اور کھیل روکنے کے ضوابط ٹورنامنٹ کے حالات سے بدل سکتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ، ایک روزہ مقابلوں اور ٹی ٹوئنٹی میں نو بال اور وائیڈ کا بنیادی مطلب ایک رہتا ہے، لیکن فری ہٹ کا استعمال محدود اوورز کے مقابلوں سے زیادہ وابستہ ہے۔ مقامی لیگ میں ہمیشہ اس کے منظور شدہ کھیل کے حالات دیکھیں، کیونکہ نام ایک ہو سکتا ہے اور ضابطہ مختلف۔

وکٹ ٹریک · Intelligence Feed · Protocol v1.0

متعلقہ مضامین