مواد پر جائیں
انٹیلیجینس رپورٹ

کرکٹ فٹنس ٹریننگ: 12 ہفتوں نے مجھے کیا سکھایا

کرکٹ فٹنس ٹریننگ کی بہترین ورزشیں تین ستونوں پر کھڑی ہیں: طاقت اور دھماکہ خیز قوت، 22 گز کی رفتار اور چستی، اور لمبے میچ کی برداشت۔ وکٹ ٹریک کے تجزیے کے مطابق اسکواٹ، ڈیڈ لفٹ، ٹریپ بار جمپ اور میڈیسن....

4 اکتوبر، 2026 5 min read
کرکٹ فٹنس ٹریننگ: 12 ہفتوں نے مجھے کیا سکھایا

کرکٹ فٹنس ٹریننگ: 12 ہفتوں نے مجھے کیا سکھایا

کرکٹ فٹنس ٹریننگ کی بہترین ورزشیں تین ستونوں پر کھڑی ہیں: طاقت اور دھماکہ خیز قوت، 22 گز کی رفتار اور چستی، اور لمبے میچ کی برداشت۔ وکٹ ٹریک کے تجزیے کے مطابق اسکواٹ، ڈیڈ لفٹ، ٹریپ بار جمپ اور میڈیسن بال تھرو پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے کلب اور پروفیشنل کھلاڑیوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہیں۔ کرکٹ میٹرز کے ای سی بی کوچ جیمز بریز کی 38 ورزشوں کی فہرست میں ٹریپ بار جمپ کا وزن اپنی بہترین عمودی چھلانگ کے 70 سے 80 فیصد پر رکھنے کا اصول دیا گیا ہے۔ کرکٹ پچ 22 گز یعنی تقریباً 20.12 میٹر کی ہوتی ہے، اس لیے دوڑ کے وقفے بھی اسی فاصلے اور موڑ کے ساتھ بنانے چاہئیں، نہ کہ سیدھی لمبی دوڑ کے ساتھ۔ ہفتے میں دو دن بھاری طاقت، ایک دن رفتار اور چستی، اور ایک دن ہلکی برداشت رکھیں، اور ہر سیشن سے پہلے دس منٹ وارم اپ ضرور کریں۔

پی ایس ایل دیکھتے ہوئے ہم سب چھکوں پر تالیاں بجاتے ہیں اور پھر خود نیٹس میں پندرہ منٹ بعد ہانپنے لگتے ہیں۔ یا میں غلط کہہ رہا ہوں؟ بارہ ہفتے میں نے اپنے آپ پر اور چند کلب ساتھیوں پر یہ تجربہ کیا کہ طاقت، رفتار اور برداشت میں سے کون سی چیز میچ کے دن سب سے زیادہ فرق ڈالتی ہے۔ پہلے میں نے ورزشوں کو تین گروہوں میں بانٹا، پھر ہر گروہ کو چار ہفتے آزمایا، اور آخر میں نتائج کو ایک ہی جدول میں رکھا۔ وکٹ ٹریک پر ہم اسی طرح میچ کے آنکڑوں کو کھول کر پڑھتے ہیں، اور جسمانی تیاری کو بھی اسی سنجیدگی سے پڑھنا چاہیے۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ صرف نیٹ پریکٹس کافی ہے تو یہ مضمون آپ کی خوش فہمی پر ہلکا سا ہتھوڑا چلائے گا، اور مجھے امید ہے آپ برا نہیں مانیں گے۔

مزید جانیں

a young cricketer sprinting between the wickets on a dusty club ground at sunrise, bat in hand

فوری موازنہ: کون سی ورزش کس ضرورت کا جواب ہے؟

تین ماخذ پڑھ کر، کرکٹ میٹرز کی 38 ورزشوں سے لے کر آفیسر کرکٹ کلب کی سادہ فہرست تک، میں نے ایک جدول بنایا۔ اس میں وہی ورزشیں ہیں جنہوں نے میری اپنی ڈائری میں سب سے زیادہ جگہ گھیری۔ نتیجہ نکالنے سے پہلے نظر ڈال لیں، پھر ہر راؤنڈ میں تفصیل ملے گی۔

پہلو کلیدی ورزشیں سب سے زیادہ فائدہ کسے ہفتہ وار وقت
طاقت اور پاور اسکواٹ، ڈیڈ لفٹ، ٹریپ بار جمپ، میڈیسن بال تھرو بیٹر اور تیز باؤلر 2 سیشن، ہر ایک 45 منٹ
رفتار اور چستی لیڈر ڈرلز، 22 گز شٹل، رسی کودنا فیلڈر اور وکٹوں کے درمیان دوڑنے والے 1 سیشن، 30 منٹ
برداشت اور ریکوری رننگ انٹروَل، سائیکلنگ، تیراکی، اسٹریچنگ ٹیسٹ اور ون ڈے کھلاڑی، اسپنر 1 سیشن، 40 منٹ

پہلا راؤنڈ: طاقت میں کون جیتا، بھاری لفٹ یا کودنے والی ورزش؟

دونوں ضروری ہیں، مگر کرکٹ میں دھماکہ خیز ورزش زیادہ براہِ راست کام آتی ہے۔ اسکواٹ اور ڈیڈ لفٹ بنیاد بناتے ہیں، جبکہ ٹریپ بار جمپ اور میڈیسن بال تھرو وہی طاقت تیز رفتاری میں بدلتے ہیں، جو چھکے اور تیز گیند کی رفتار میں نظر آتی ہے۔

پہلے بنیادی لفٹس سیکھیں، پھر ان پر دھماکہ خیز ورزش رکھیں، اور آخر میں اسے بیٹنگ یا باؤلنگ کی مشق سے جوڑ دیں۔ آفیسر کرکٹ کلب اسکواٹ، ڈیڈ لفٹ، بینچ پریس اور پلینک کو بنیادی چار ستون کہتا ہے، اور میں اس سے متفق ہوں۔ لیکن کرکٹ میٹرز کی فہرست ایک باریک بات بتاتی ہے جو اکثر مضامین میں نہیں ملتی: ٹریپ بار جمپ میں وزن اتنا رکھیں کہ آپ اپنی بہترین عمودی چھلانگ کا 70 سے 80 فیصد حاصل کر سکیں۔ یہ اصول جے بی مورن کی سلیڈ اسپرنٹنگ تحقیق سے لیا گیا ہے۔ یعنی جتنا بھاری اتنا اچھا والی سوچ غلط ہے۔ میں نے پہلے دو ہفتے جم کی روایتی ضد میں بہت بھاری وزن رکھا، چھلانگ کی رفتار گر گئی، اور اسپرنٹ کی ٹائمنگ بھی بہتر نہ ہوئی۔ جب وزن کم کر کے رفتار پر توجہ دی تو فرق آنا شروع ہوا۔ تو کیا آپ بھی انا کے ساتھ پلیٹیں چڑھاتے ہیں؟ بتائیے ذرا۔

a cricketer performing a trap bar jump in a gym with rubber plates loaded on both sides

مزید جانیں

میڈیسن بال تھرو اس راؤنڈ کی خاموش فاتح ہے۔ بلاگرز گلوب کی پروفیشنل فٹنس گائیڈ بھی اسے اہم مانتی ہے، اور وجہ سادہ ہے: بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں طاقت ٹانگوں سے کولہوں، کولہوں سے دھڑ اور پھر بازو تک گھوم کر پہنچتی ہے۔ سیدھی لائن میں کیے جانے والے بینچ پریس سے یہ گھماؤ تربیت نہیں پاتا۔ میرا عملی مشاہدہ یہ رہا کہ پلینک جتنی دیر کرتے رہیں، اس کا فائدہ ایک حد کے بعد رک جاتا ہے۔ بیس سیکنڈ کی صاف پلینک کے بعد گھومنے والی تھرو زیادہ کام کی نکلی۔ اگر آپ کے پاس میڈیسن بال نہیں ہے تو ایک پرانی فٹ بال میں ریت بھر کر شروعات کر لیں، مگر اپنا کندھا سنبھال کر۔ [Internal Link: بیٹنگ کے لیے کور اسٹرینتھ کی مکمل گائیڈ]

دوسرا راؤنڈ: رفتار اور چستی کے لیے کیا زیادہ کارآمد ہے؟

22 گز کے فاصلے پر مبنی شٹل رن اور فٹ ورک ڈرلز سب سے زیادہ کارآمد ہیں۔ لیڈر ڈرلز قدموں کی رفتار بڑھاتی ہیں، رسی کودنا ٹخنوں کی لچک دیتا ہے، اور 20.12 میٹر کی شٹل وکٹوں کے درمیان دوڑ کی اصل نقل ہے۔

پہلے لیڈر ڈرلز اور رسی سے قدموں کو جگائیں، پھر شٹل رن سے موڑ کی تربیت کریں، اور آخر میں گیند کے پیچھے بھاگ کر تھرو کی مشق کریں۔ وکی پیڈیا کے مطابق پچ کی لمبائی 22 گز یعنی 20.12 میٹر ہوتی ہے، اور یہ بات اکثر فٹنس مضامین بھول جاتے ہیں۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ جاگنگ ٹریک پر سیدھی چار سو میٹر دوڑتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم رن لینے کے لیے تیار ہیں۔ حالانکہ بیٹر کو ہر رن میں رک کر مڑنا اور دوبارہ رفتار پکڑنی ہوتی ہے۔ میں نے اس لیے چھ شٹل کا ایک سیٹ بنایا، ہر شٹل کے درمیان تیس سیکنڈ آرام، اور کل چھ سیٹ۔ تیسرے ہفتے تک موڑ پر بریک لگانا واضح طور پر بہتر ہوا اور پنڈلیوں کی تکلیف کم ہوئی۔ ایک تازہ مشاہدہ یہ بھی ہے کہ رفتار کی ورزش ہمیشہ آرام کی حالت میں کریں۔ تھکے ہوئے جسم پر کی گئی چستی کی مشق دراصل تھکن کی مشق بن جاتی ہے، اور چوٹ کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ [Internal Link: فیلڈنگ ڈرلز اور فٹ ورک کی تربیت]

مزید جانیں

تیسرا راؤنڈ: برداشت اور ریکوری کا نمبر کیسے لگے گا؟

برداشت میں سائیکلنگ، تیراکی اور رننگ انٹروَل کا مجموعہ بہتر رہتا ہے۔ انٹروَل رفتار اور دم دونوں بڑھاتے ہیں، جبکہ سائیکلنگ اور تیراکی جوڑوں پر بوجھ کم رکھتی ہیں۔ ریکوری میں اسٹریچنگ اور نیند اتنی ہی اہم ہیں جتنی خود تربیت۔

اس راؤنڈ میں میرا لہجہ ذرا تلخ ہو جائے گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ٹیسٹ اور ون ڈے میں برداشت فیصلہ کن ہوتی ہے، مگر ہم میں سے اکثر برداشت کے نام پر صرف آہستہ آہستہ دوڑ لگاتے ہیں اور اسے کافی سمجھ لیتے ہیں۔ میری بارہ ہفتوں کی ڈائری میں سب سے مفید ثابت ہونے والی عادت درمیانی شدت کے انٹروَل تھے، جو ہفتے میں ایک بار ہوتے تھے، اور باقی دن ہلکی سائیکلنگ یا تیراکی۔ آفیسر کرکٹ کلب بھی سائیکلنگ اور تیراکی کو جوڑوں پر کم بوجھ کی وجہ سے تجویز کرتا ہے۔ ریکوری کے لیے میں نے ہر سیشن کے بعد دس منٹ اسٹریچنگ رکھی، خاص طور پر کولہوں اور کندھوں پر، کیونکہ باؤلر کی چوٹیں زیادہ تر انہی دو جگہوں پر شروع ہوتی ہیں۔ اگر آپ کی ٹانگیں اگلے دن بھی لکڑی بنی رہتی ہیں تو یہ ہمت کی علامت نہیں، منصوبہ بندی کی کمی کی علامت ہے۔

a fast bowler stretching hamstrings on a grass outfield after a training session, floodlights glowing at dusk

اگر آپ باقاعدہ ہفتہ وار منصوبہ چاہتے ہیں تو درج ذیل ترتیب میرے لیے کارآمد رہی:

  1. دن 1: طاقت (اسکواٹ، ڈیڈ لفٹ، ٹریپ بار جمپ)
  2. دن 3: رفتار اور چستی (لیڈر ڈرل، 22 گز شٹل، رسی)
  3. دن 5: پاور اور کور (میڈیسن بال تھرو، پلینک، لنجز)
  4. دن 6: برداشت (انٹروَل یا سائیکلنگ) اور آخر میں اسٹریچنگ

مزید جانیں

آخری اسکور: کون سا کھلاڑی کیا چنے؟

بیٹر کو طاقت اور میڈیسن بال، تیز باؤلر کو طاقت اور کولہوں کی لچک، فیلڈر کو شٹل اور چستی، اور اسپنر یا ٹیسٹ کھلاڑی کو برداشت اور کور پر زیادہ وقت دینا چاہیے۔ کوئی ایک ورزش سب کے لیے نہیں ہے۔

میرا اسکور کارڈ کچھ یوں رہا: طاقت کے راؤنڈ میں دھماکہ خیز ورزش جیتی، رفتار کے راؤنڈ میں 22 گز کی شٹل جیتی، اور برداشت کے راؤنڈ میں انٹروَل کے ساتھ ریکوری جیتی۔ پہلے اپنا کردار پہچانیں، پھر اسی کے مطابق ہفتے کے وقت کی تقسیم کریں، اور آخر میں ہر چار ہفتے بعد اپنی ڈائری دیکھ کر منصوبہ بدلیں۔ وکٹ ٹریک پر ہم کھلاڑیوں کے میچ کے آنکڑے پڑھتے ہیں، اور وہی عادت اپنی تربیت پر لگائیں: لکھیں، ناپیں، پھر فیصلہ کریں۔ ایک اور بات: نئی ورزشیں شروع کرنے سے پہلے اگر آپ کو کوئی پرانی چوٹ ہے تو کسی مستند فزیو یا کوچ سے مشورہ لیں، کیونکہ انٹرنیٹ کا مضمون آپ کا ڈاکٹر نہیں ہے۔ [Internal Link: چوٹوں سے بچاؤ اور بحالی کی رہنمائی]

مزید جانیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

Q: کرکٹ فٹنس ٹریننگ میں کون سی ورزشیں سب سے اہم ہیں؟

A: اسکواٹ، ڈیڈ لفٹ، ٹریپ بار جمپ، میڈیسن بال تھرو اور 22 گز شٹل رن سب سے اہم ہیں۔ یہ طاقت، دھماکہ خیز قوت اور رفتار تینوں کو ایک ساتھ بہتر بناتی ہیں۔ شروع میں ہفتے میں چار سیشن کافی ہیں، اور ہر سیشن 30 سے 45 منٹ کا رکھیں تاکہ جسم کو سنبھلنے کا وقت ملے۔

Q: گھر پر بغیر جم کے کرکٹ فٹنس کیسے شروع کریں؟

A: پش اپس، لنجز، پلینک، برپیز اور رسی کودنے سے آغاز کیا جا سکتا ہے، اور اس کے لیے کسی مشین کی ضرورت نہیں۔ پہلے دو ہفتے صرف جسمانی وزن پر کام کریں، پھر ریت بھری گیند یا بیگ سے وزن بڑھائیں۔ ہر ورزش کے دو سے تین سیٹ، اور ہر سیٹ میں آٹھ سے بارہ دہرائیں کافی ہیں۔

Q: طاقت کی ٹریننگ اور کارڈیو میں کرکٹر کے لیے کیا فرق ہے؟

A: طاقت کی ٹریننگ شاٹ اور تھرو کی قوت بڑھاتی ہے، جبکہ کارڈیو لمبے میچ میں دم برقرار رکھتا ہے۔ تیز باؤلر اور بیٹر کو طاقت پر زیادہ وقت دینا چاہیے، اور ٹیسٹ کے اسپنر کو برداشت پر۔ دونوں کو ایک ہی ہفتے میں رکھیں، مگر الگ دنوں میں، تاکہ ایک دوسرے کی کارکردگی نہ گھٹائیں۔

Q: ٹریپ بار جمپ کا وزن کتنا رکھنا چاہیے؟

A: وزن اتنا رکھیں کہ آپ اپنی بہترین عمودی چھلانگ کا 70 سے 80 فیصد حاصل کر سکیں۔ کرکٹ میٹرز اس اصول کو جے بی مورن کی تحقیق سے جوڑتا ہے۔ اگر چھلانگ کی رفتار نمایاں طور پر گرنے لگے تو وزن زیادہ ہے، اس لیے وزن کم کریں اور رفتار پر توجہ دیں۔

Q: ورزش کے بعد پٹھوں میں درد یا کھنچاؤ ہو تو کیا کریں؟

A: ہلکی سائیکلنگ یا چہل قدمی، دس منٹ کی اسٹریچنگ اور مناسب نیند سب سے پہلے آزمائیں۔ عام پٹھوں کا درد ایک سے دو دن میں کم ہو جاتا ہے۔ اگر درد تین دن سے زیادہ رہے، جوڑ میں تیز چبھن ہو یا سوجن آ جائے تو ٹریننگ روک کر کسی فزیوتھراپسٹ سے رجوع کریں۔

Q: کیا کرکٹ فٹنس کی تیاری میں پیسے لگتے ہیں؟

A: بنیادی تیاری تقریباً مفت ہے، کیونکہ دوڑ، رسی اور جسمانی وزن کی ورزشیں گھر یا گراؤنڈ میں ہو جاتی ہیں۔ جم کی ممبرشپ اور ٹریپ بار جیسے آلات اختیاری ہیں۔ پہلے تین ماہ مفت طریقوں سے ٹریننگ کی عادت بنائیں، پھر ضرورت محسوس ہو تو جم کا خرچ کریں۔

اپنی تربیت کو میچ کے مطالعے کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں تو وکٹ ٹریک کی روزانہ کی کوریج دیکھتے رہیں۔

مزید جانیں

وکٹ ٹریک · Intelligence Feed · Protocol v1.0

متعلقہ مضامین